ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیرالہ کے صحافی کے خلاف حیران کن معلومات ہیں: یوپی پولیس کا عدالت میں سنسنی خیز دعویٰ

کیرالہ کے صحافی کے خلاف حیران کن معلومات ہیں: یوپی پولیس کا عدالت میں سنسنی خیز دعویٰ

Wed, 02 Dec 2020 23:23:22    S.O. News Service

نئی دہلی،2دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کو بتایا کہ کیرالا سے تعلق رکھنے والے صحافی صدیقی کپن کی گرفتاری سے متعلق کیس میں اب تک کی تحقیقات میں انتہائی چونکا دینے والی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

صدیقی کو اجتماعی عصمت دری اور اس کے بعد دلت خاتون کی موت کے  بعد، مبینہ طور پر رپورٹنگ کےلئے ہاتھرس جانے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رم سبرامنیم کی بنچ کے سامنے یوپی حکومت نے کہا کہ صدیقی  دعوی کرتا ہے کہ وہ کیرالہ کے ایک روزنامہ میں صحافی کی حیثیت سے کام کرتا ہے، جبکہ یہ اخبار دو سال پہلے ہی بند ہوچکا ہے۔

یوپی حکومت سے تعلق رکھنے والے سالسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایاکہ اب تک کی تحقیقات میں حیران کن اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔سپریم کورٹ اس صحافی کی گرفتاری کو چیلنج دینے والی کیرل یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کی درخواست پر سماعت کررہاہے۔ بنچ نے درخواست گزار ادارے سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا وہ ہائی کورٹ جانا چاہے گی۔ اس تنظیم کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے کہا کہ وہ خود ہی عدالت میں اس معاملے پر بحث کریں گے اور درخواست گزار کپن کی اہلیہ اور دیگر کو بھی شامل کریں گے۔

سبل نے کہاکہ ہائی کورٹ نے اسی معاملے میں ایک اور ملزم کی درخواست پر ایک ماہ کا وقت دیا ہے اور اسی وجہ سے میں یہاں بحث کرنا چاہتا ہوں، مجھے یہیں پرسنیں۔ مہتا نے بتایا کہ کپن کی وکیل سے ملاقات ہوئی ہے اور ملزم یہاں فریق نہیں ہے۔ سبل نے صحافی ارنب گوسوامی کے معاملے کا حوالہ دیا، جسے عدالت عظمی نے مبینہ خود کشی کے الزام میں عبوری ضمانت منظور کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اسی فیصلے کو بنیاد بنائیں گے،کیوں کہ اس میں قانون پرعمل کیا گیاہے،ہر معاملہ مختلف ہے، آپ ہمیں ایک ایسا کیس بتائیں جس میں کسی ایسوسی ایشن نے راحت کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔

بنچ نے کہاکہ ہم آپ کے قانون کے مطابق سماعت کرنا چاہتے ہیں اور اس معاملے کی سماعت ہائی کورٹ میں ہونی چاہئے تھی۔اس کے ساتھ ہی بنچ نے معاملہ اگلے ہفتے کے لئے درج کیا۔ ریاستی حکومت نے بنچ کو بتایا کہ وہ اس ادارے کے جوابی حلف نامے پر اپنا حلف نامہ داخل کرے گی۔ یوپی پولیس نے حال ہی میں اپنے حلف نامے میں یہ دعوی کیا تھا کہ کپن ذات پات اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کے منصوبوں کے ساتھ صحافت کی آڑ میں ہاتھرس جارہا ہے۔ اس کے جواب میں درخواست گزار تنظیم نے عدالت میں دائر اپنے حلف نامے میں یوپی پولیس کے اس دعوے کو مکمل اور غلط قرار دیا ہے کہ صدیقی کپن پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے آفس سیکرٹری ہیں۔ تنظیم نے دعوی کیا ہے کہ کاپن صرف ایک صحافی کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ صدیقی کپن کو 5 اکتوبر کو ہاتھرس جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

متھرا پولیس نے اس سلسلے میں دعوی کیا ہے کہ انہوں نے متھرا میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے تعلق رکھنے والے چار افراد کوگرفتار کیا، ان کے نام صدیقی ہیں، جو ملاپورم کا رہائشی ہے، مظفر نگر کا رہائشی عتیق الرحمن، بہرائچ کا مسعود احمد اور رام پور کا عالم ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے چار افراد کے خلاف پاپولر فرنٹ آف انڈیا یا پی ایف آئی کے ساتھ مبینہ رابطوں کے الزام میں تعزیرات ہند کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ پی ایف آئی پر بھی اس سال کے شروع میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج کے لئے فنڈز فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ 14 ستمبر کو ہاتھرس کے ایک گاؤں میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ واقعے میں بری طرح زخمی ہونے والی بچی بعد میں صفدرجنگ اسپتال میں دم توڑ گئی۔ رات گئے ہی اس کے لواحقین کی مبینہ رضامندی کے بغیر اس کی آخری رسومات کردی گئی، جس سے عوام میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا گیا تھا۔


Share: